کبھی کبھی ہم آئینہ دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنا آپ ٹھیک طرح نظر نہیں آتا۔ تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ آئینہ صاف نہیں ہے گرد و غبار نے اس کا عکس دھندلا دیا ہے۔تب ہم آئینے کی صفائی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
صفائی سُتھرائی زندگی کی اہم ضرورت ہے۔ ہم روزانہ اپنےگھروں کی صفائی کرتے ہیں ۔ جھاڑو پونچھا کیا جاتا ہے۔ جو چیزیں بے ترتیب ہو جاتی ہیں، اُنہیں ترتیب سے رکھا جاتا ہے۔ ہم روز دُھلے دُھلائے کپڑے پہنتے ہیں۔ ایک سے دو دن کپڑے تبدیل نہ کریں تو اُن سے ناگوار بو آنے لگتی ہے۔ باورچی خانے میں برتن بھی روزانہ دھلتے ہیں۔ ایک دو دن برتن نہ دھوئیں تو شاید آپ کا باورچی خانے میں کھڑا ہونا بھی محال ہو جائے۔ الغرض صفائی سُتھرائی کا کام روزانہ کی بنیاد پر کیا جانا ضروری ہے۔
جس طرح انسان کے لئے اپنے ظاہری سامان و اسباب کی صفائی روز کرنا ضروری ہے ، اسی طرح اُسے اپنے باطن کی صفائی بھی تسلسل سے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ باطن کی صفائی کو ہم تزکیہ یا تزکیۂ نفس کہتے ہیں۔ دنیا کی بے جا محبت، گناہوں اور کھیل تماشوں میں رہ کر دل کا آئینہ گرد سے اَٹ جاتا ہے۔ پھر ہم اس آئینے میں خود کو دیکھنا بھی چاہیں تو نہیں دیکھ پاتے۔اللہ رب العزت قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:
وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ نَسُوا۟ ٱللَّهَ فَأَنسَىٰهُمْ أَنفُسَهُمْ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ ١٩
اور (اے مسلمانو!) تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے غافل کردیا۔ یہی لوگ ہیں جو فاسق ہیں۔ حشر (59:19)
یعنی جو لوگ اللہ کی یاد سے غافل ہو جاتے ہیں تو اللہ اُن کو یہ بھی بھلا دیتا ہے کہ وہ کون ہیں۔ یعنی وہ اپنے آپ سے غافل ہو جاتے ہیں اور یہ بھلا بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے اس دنیا میں انہیں امتحان کی غرض سے بھیجا ہے۔ تصور کریں کہ اگر کوئی شخص کمرۂ امتحان میں ہو اور وہ یہ بھول جائے کہ وہ یہاں امتحان کی غرض سے ہے تو وہ وہاں کیا کرے گا اور اُس کے امتحان کے نتائج کس طرح کے ہوں گے۔
سو انسان کو ہمہ وقت خود کو یہ باور کرواتے رہنا چاہیے کہ وہ اس دنیا میں امتحان کی غر ض سے بھیجا گیا ہے اور اُسے چاہیے کہ دنیاوی معاملات کے ساتھ ساتھ آخرت کی تیاری بھی کرتا رہے۔کیونکہ اخروی فلاح ہی اصل کامیابی ہے۔
اللہ نے آخرت کی کامیابی اور فلاح کو تزکیۂ نفس سے مشروط کیا ہے ۔ دیکھیے قرآنِ مجید میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔
قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ ١٤یقینا وہ کامیاب ہوگیا جس نے خود کو پاک کرلیا۔ سورۃ اعلی (87:14)
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّىٰهَایقینا کامیاب ہوگیا جس نے اس (نفس) کو پاک کرلیا۔ سورۃ الشمس (91:9)
اسی طرح قرآن سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ رسول کا کام لوگوں کو اللہ کی آیات سنانا اور اُن کو پاک کرنا ہوتا ہے۔
اللہ نے قرانِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرمایا۔
كَمَآ أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًۭا مِّنكُمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْكُمْ ءَايَـٰتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا۟ تَعْلَمُونَ ١٥١جیسے کہ ہم نے بھیج دیا ہے تمہارے درمیان ایک رسول خود تم میں سے ، وہ تلاوت کرتا ہے تم پر ہماری آیات اور تمہیں پاک کرتا ہے (تمہارا تزکیہ کرتا ہے) اور تمہیں تعلیم دیتا ہے کتاب اور حکمت کی اور تمہیں تعلیم دیتا ہے ان چیزوں کی جو تمہیں معلوم نہیں تھیں ۔ سورۃ البقرۃ (2:151)
اب تک کی گفتگو سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ:
اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید سیکھے اور سکھائے۔(صحیح بخاری : 5027)
اللہ رب العزت کے فرمان کے مطابق جو کوئی اپنا تزکیہ کر لے گا ، اُسے یقیناً فلاح مل جائے گی۔ سو ہمیں چاہیے کہ اس بارے میں سنجیدگی سے غور و فکر کریں اور اپنے معمولات میں قرانِ کریم کی تعلیمات کو جگہ دیں ۔اسے سیکھنے، سمجھنے اور سکھانے کا کماحقہ اہتمام کریں۔
تحریر: ابو ابراہیم

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں