دعا کا تحفہ


زندگی عمل کا دوسرا نام ہے۔ جو لوگ ابھی حیات ہیں اُن کے لئے موقع ہے کہ وہ نیک عمل کر لیں اور اپنی آخرت کے لئے ذخیرہ کر لیں۔ آدمی کا مال و اسباب سب یہیں رہ جائے گا۔ اس کے ساتھ صرف اس کے اعمال جائیں گے۔سورۃ الکہف میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں:

اَلۡمَالُ وَ الۡبَنُوۡنَ زِیۡنَۃُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ الۡبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیۡرٌ عِنۡدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّ خَیۡرٌ اَمَلًا ﴿۴۶﴾

مال اور اولاد تو دنیا کی زندگی کی رونق ہیں اور تیرے رب کے ہاں باقی رہنے والی نیکیاں ثواب اور آخرت کی امید کے لحاظ سے بہتر ہیں

پس جنہیں اللہ نے مہلت دی ہے اُنہیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کریں اور اطاعت و فرمانبرداری کرکے اپنے رب کو راضی کر لیں۔ کیونکہ یہ مہلت  تب تک ہے جب تک زندگی باقی ہے۔ جیسے ہی یہ زندگی ختم ہوگی اعمال کی مہلت  بھی ختم ہو جائے گی۔

نامۂ اعمال کی بندش: 

رسولِ اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: 

" جب انسان فوت ہو جائے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین اعمال کے (جو منقطع نہیں ہوتے): صدقہ جاریہ یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے ۔" صحیح مسلم حدیث #4223

اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کے فوت ہوتے ہی اس کا اعمال نامہ بھی بندکردیا جاتا ہے ۔تاہم مذکورہ بالا تین اعمال کا ثواب اس کے نامۂ اعمال میں مرنے کے بعد بھی مسلسل درج ہوتا رہتا ہے۔ یہ تینوں دراصل کچھ اور نہیں بلکہ اس کے زندگی میں کیے گئے نیک اعمال کا تسلسل ہیں۔ سو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے والدین ، بزرگوں ،  اساتذہ اور ان تمام لوگوں کے لیے دعا کرتے رہیں کہ جنہوں نے ہمیں نیکی کا راستہ دکھایا اور کوئی فائدہ پہنچایا۔ 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جنت میں ایک نیک آدمی کے درجات کو بلند کرتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار! میرے یہ درجات کہاں سے؟ اللہ فرمائے گا کہ تیرے حق میں تیری اولاد کے استغفار کی برکت سے۔ [مسند احمد حدیث: 10610]

ہم اپنی دنیاوی مصروفیات میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ اپنے اُن پیاروں کو بھول جاتے ہیں جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ حالانکہ وہ آج اپنی قبروں میں ہماری دعاؤں کے شدید مستحق ہیں۔ ایک مختصر سی دعا، سچے دل سے نکلا ہوا  ایک جملہ، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت ، کا سبب بن سکتا ہے۔

سوچیے! اگر آپ روزانہ صرف چند منٹ نکال لیں، تو آپ اپنے والدین، دادا دادی، نانا نانی، رشتہ داروں، اساتذہ، دوستوں اور ان تمام لوگوں کو اپنی دعا میں یاد کر سکتے ہیں، جو اس دنیا سے جا چکے ہیں۔ 

کون جانتا ہے کہ ہماری ایک دعا کسی عزیز کی آخرت سنوار دے؟ کون جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری زبان سے نکلے ہوئے چند الفاظ کو قبول فرما کر کسی مرحوم کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے؟

رسول اللہ ﷺ  کا فرمان ہے :

" جب کوئی شخص اپنے بھائی کے لیے غائبانہ دعا کرتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں ۔آمین ( اے اللہ ! قبول فرما ) اور تجھے بھی یہی کچھ حاصل ہو ۔"

سنن ابو داؤد#1534

یعنی جو دعا آپ دوسروں کے لیے مانگتے ہیں، اللہ تعالیٰ اسی جیسی بھلائی آپ کو بھی عطا فرماتا ہے۔ 

دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے اور آپ کو اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

آخری درخواست یہ ہے کہ اس خاکسار کو بھی اپنی دعاؤں میں شامل کرنا مت بھولیے گا۔ 

تحریر: ابو ابراہیم


تبصرے