- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
![]() |
مقررہ وقت گزرنے کے بعد ان کرنسی نوٹوں کی وقعت سادہ کاغذ کے برابر بھی نہیں رہے گی۔ پھر یہ آپ کے کسی کام نہیں آ سکیں گے اور آپ سوچیں گے کہ کاش میں یہ نوٹ بدلوا کر موجودہ کرنسی لے لیتا۔
زندگی کا کچھ بھروسہ نہیں، نہیں معلوم کب میری یا آپ کی آنکھیں بند ہو جائیں۔ اگلے جہان میں نیکی کا سِکّہ چلے گا۔ یہ نوٹ ہمارے ساتھ وہاں نہیں جاسکیں گے۔ اگر آپ کسی کو کہہ سُن کر یہ نوٹ اپنی لحد میں رکھوا بھی دیں، تب بھی وہاں ان کی کوئی اہمیت اور وقعت نہیں ہوگی۔
اس لیے بہتر ہے کہ آپ ان نوٹوں کی بندش سے پہلے پہلے انہیں اپنے اوپر خرچ کرلیں، اپنے اہل و عیال پر خرچ کریں اور اُن پر خرچ کریں جنہیں اس وقت ضرورت ہے۔ نیکی کا کوئی کرنٹ اکاؤنٹ ایسا کھول لیں، جو آپ کے جانے کے بعد بھی چلتا رہے، کوئی ایسا کام کر جائیں کہ آپ کے جانے کے بعد بھی لوگوں کو اس کا فیض ملتا رہے۔ اگر آپ اُس طریقے سے اِن نوٹوں کو خرچ کریں گے جو مجھے اور آپ کو بتایا، سکھایا گیا ہے تو آپ کی یہ کرنسی اگلے جہان کی کرنسی میں ایکسچینج ہو جائے گی۔
کفن میں تو جیب نہیں ہوتی لیکن اس طریقے پر عمل کرکے آپ وہاں پہنچنے پر بھی مالدار ہوں گے کہ باقیات تو بس صالحات ہی ہیں۔
جس نے ہمیں یہ رزق دیا ہے اسے خرچ کرتے وقت ہمیں اس کی مرضی کو اور منشاء کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
دھیان رہے کہ یہ نوٹ، یہ روپیہ پیسہ ہمارے رب کی دین ہے اور یہ اس لئے ہے کہ ہم اس دنیا میں اپنے معاملات چلا سکیں۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش بھی ہے کہ ہم مالی معاملات میں اُس کی منشاء کا خیال رکھتے ہیں یا اپنی خواہشِ نفس کو ہی سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔ سو اس بات کا دھیان بہت ضروری ہے کہ آپ کی کمائی چاہے کم ہو، لیکن جائز ہو۔ آپ اسراف سے بچتے رہیں اور اپنے وسائل کو لوگوں کی دل آزاری کے لئے نہیں بلکہ اُن کی تالیفِ قلب کے لئے استعمال کریں۔
تحریر: ابو ابراہیم
******
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں